Allama Iqbal Motivational Shayari – 150+ Best Inspirational Poetry by Iqbal

300+ Best Allama Iqbal Motivational Shayari in Hindi | Best Inspirational Poetry by Iqbal

Allama Iqbal Motivational Shayari in Hindi: अल्लामा इक़बाल सिर्फ एक शायर नहीं, बल्कि एक visionary, एक philosopher, और एक motivational speaker थे। उनकी शायरी ने पूरी एक नस्ल को जगाया, उनके अंदर khudi का जज़्बा पैदा किया। उनकी poetry सिर्फ शब्दों का खेल नहीं, बल्कि उस energy का नाम है जो किसी को भी dead से alive कर सकती है। चाहे वो youth हो, students हों, या professionals – इक़बाल की शायरी हर किसी को अपने goals हासिल करने की inspiration देती है। उनका concept of Khudi (selfhood) آج بھی اتنا ہی relevant ہے جتنا صدیوں پہلے تھا।

इक़बाल ने अपनी शायरी के ज़रिए musalmans को jagane का काम किया, उन्हें apni shakhsiyat پہچانने का lesson दिया। उनकी poetry में वो power ہے جو آپ کو uthne, chalne, اور apni taqdeer khud likhne की taqat देती है। यह collection उनके best motivational shayari پر مشتمل ہے۔ चाहे आप shikwa और jawab-e-shikwa पढ़ें, या khudi के concept کو समझें – इक़बाल की हर शायरी आपको aage badhne کا message देती है۔ Now get inspired by the legendary poetry of Allama Iqbal.

Khudi & Self-Belief Shayari by Iqbal

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے،
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر جھکے،
جو تو چاہے تو بدل ڈالے زمانے کی ڈھب۔

جو خود کو پہچان لے وہ بادشاہ ہے،
جو خود کو بھول جائے وہ تباه ہے۔

اپنی منزل کو پہچان، اپنی آنکھوں میں آسمان،
تیری تقدیر تیرے ہاتھ ہے، اٹھ اور پہچان۔

خودی کا سمندر ہو، یا خوابوں کا آسمان،
بس اپنی نیت کو رکھ، جیسے لوحِ قرآن۔

جو سمجھا نہ خود کو، وہ کیا جانے جہان کا فن،
جو ڈھونڈے حقیقت، وہی پائے علم کا وزن۔

نہ ڈر خود کو پہچاننے سے اے بندے،
تیری ہستی ہے اک شاہکار، کر اسے آباد۔

خودی کی رہ میں جو چلا، وہی کامیاب ہوا،
جو خود سے ملا، وہی خدا سے ملا۔

اٹھ، اپنی حقیقت کو پہچان، زمانے کو بدل،
خاک میں بھی چمک ہے، اگر تو عمل کر۔

خود کو سمجھنا ہی اصل انقلاب ہے،
یہی آگہی انسان کا نصاب ہے۔

بلند رکھ اپنے ارادوں کو، اے فرزندِ خاک،
کہ تقدیر بھی جھک جاتی ہے، جب جوان ہوتا ہے پاک۔

جو خود میں رہ کے جگمگائے وہی ستارہ ہے،
جو اوروں سے روشنی لے وہ سیارہ ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر بدل جائے،
جو تو چل دے تو زمانہ بھی سمت بدل جائے۔

خودی کی شمع سے روشن ہے انجمن اپنی،
جو اپنا راز پہچانے وہی سخن اپنا۔

ترا اپنا وجود ہے تری دولت،
اسے پہچان لے تو ہے بے مثل۔

جو خود سے ملنے کا ہنر جان لے،
وہ زندگی کا راز پہچان لے۔

Shayari for Youth & Students by Iqbal

سِتاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں،
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

تُو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا،
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں۔

اٹھ اے جوانِ مسلم! تجھے حکم ہے خُدا کا،
کہ اٹھ کے رُخ بدل دے زمانے کی بے حِسی کو۔

جو خواب ہیں آنکھوں میں، انہیں تعبیر بنا،
یہ عمر نہیں لوٹے گی، ابھی تقدیر بنا۔

اے نوجوان! اپنے ارادوں کو پر دے،
فلک بھی جھکے، جب تُو اپنے اندر نظر دے۔

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے،
دہر میں نام مسلماں کو جلا لا کر دے۔

تو اٹھ اور اپنی دنیا کو آپ ہی بنا،
تیرے سوا کون ہے تیرے لیے دعا بنا۔

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے،
کہ دانہ خاک ہو کر پھول کی پتی بنتا ہے۔

اے سبزۂ دمن! تجھے اٹھنا ہے ایک دن،
تو آج ہی سے تیار رہ، کل کی صبح ہے تیری۔

جو جوانوں کی ہمت جگا سکتا ہے،
وہی اس قوم کو نئی راہ دکھا سکتا ہے۔

تیری شبنم کی تاثیر ہے تو اٹھا لے علم،
تیری آگ ہے تو سلگا لے جہاں کو۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر جھکے،
یہی پیغام ہے اقبال کا ہر جوان کے لیے۔

قوم اس کی جوانوں پہ فخر کرتی ہے،
جو خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔

تیری آنکھوں میں ہے وہ خواب جو دیکھا تھا اقبال نے،
اب اٹھ اور اسے سچا کر دکھا۔

اے نوائے شرق! تری صدا سے جگا ہے جہاں،
اب ذرا اپنے اندر کی آگ کو بھی جگا۔

Shayari on Hard Work & Struggle by Iqbal

کچھ کام ہے تیرا تو اٹھ اور کر گزر،
کچھ بات ہے تیری تو کہہ اور کر گزر۔

ہر شکست میں چھپی ہے فتح کی کوئی صدا،
جو گرا، وہی سمجھا رازِ رفتہ و بقا۔

جو راکھ سے اُٹھا، وہ روشنی کہلایا،
جو ڈر گیا، وہ دھُول میں کھو گیا۔

وقت کے ہاتھوں بکھر گئے خواب سارے،
ہم نے جینے کی خواہش بھی چھوڑ دی۔

زندگی کا سفر تھکن سے بھر گیا ہے،
منزل قریب ہے مگر حوصلہ ٹوٹ گیا۔

غم کی بارش میں بھیگتی رہی عمر ساری،
اور خوشی کا کوئی موسم نہ آیا۔

زندگی نے ہمیں دکھوں کا تحفہ دیا،
مسکرانے کا ہنر بھی چھین لیا۔

جو رُک گیا، وہ خاک ہوا، جو چلا، وہ نور ہوا،
ہر خموشی میں، ایک صدائے سرور ہوا۔

سفر ختم نہیں ہوتا، منزلیں بدلتی ہیں،
جو رک جائے وہ مٹی، جو چلے وہ کہانی ہے۔

گرنے سے کیا ہوا، اگر نیت جوان ہے،
یہی تو جستجو کا پہلا اعلان ہے۔

وقت کہتا ہے، رُکنے والا مٹ جاتا ہے،
چلنے والا ہی نشان چھوڑ جاتا ہے۔

تقدیر ہاتھوں کی لکیروں سے نہیں بنتی،
یہ دل کے حوصلوں سے لکھی جاتی ہے۔

زنجیروں سے کہہ دو، وہ تھک گئی ہیں بہت،
اب ہاتھوں نے نیا خواب بُننا شروع کیا۔

اندھیروں سے ڈر کے ہم نے کچھ بھی نہ پایا،
چراغ جلایا تو راستہ بن گیا۔

خواب آنکھوں میں رکھ، دل میں دیا جلا،
یہی تو جینے کا سلیقہ بنتا ہے۔

Shayari on Success & Achievement by Iqbal

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر جھکے،
جو تو چاہے تو بدل ڈالے زمانے کی ڈھب۔

آسمان چھو لو، مگر زمین یاد رکھنا،
فتح کا نشہ نہیں، شُکر کی بات رکھنا۔

ہم نے خوابوں کی قیمت دل سے چکائی،
وہ ہنس کے چلے گئے، ہم روتے رہ گئے۔

یقین ٹوٹا تو امید بھی مر گئی،
محنت زہر تھی جو آہستہ آہستہ پی لی۔

وقت کے دریا نے سب خواب بہا دیے،
اب دل کے ساحل پر محنت کا راج ہے۔

زندگی کے سفر میں غم ہی غم ملے،
خوشیوں کے لمحے بھی پل میں ڈھل گئے۔

غموں کا بوجھ دل پہ ایسا رکھا گیا،
مسکرانا بھی اب جرم سا لگتا ہے۔

ہر خواب ٹوٹ کر سوال بن گیا،
زندگی کا سفر بس ملال بن گیا۔

زندگی نے ہر موڑ پر بس امتحان ہی دیا،
مسکراہٹوں کا وعدہ تھا، غم ہی بانٹ دیا۔

کبھی خواب تھے، کبھی زخم بن گئے،
زندگی کے رنگ سب ہی بے رحم نکلے۔

غم نے سینچا ہے مجھے، اشکوں سے گلاب ہوا،
میں نے جل کر سیکھا، کیسے دل شاد ہوا۔

وقت کا ہر زخم ایک نصیحت ہے پیارے،
جو گرا، پھر اٹھا، وہی رہبر ہمارا۔

دل سے نکلو تو راہ بدلتی ہے وقت کی،
خواہشیں تابع نہیں، ارادے فرمانروا ہیں۔

میں تھک تو جاؤں مگر رُک نہیں سکتا،
سفر میرا ہے خوابوں سے حقیقت تک کا۔

جو زنجیریں تھیں، وہ اب ساز بن گئی ہیں،
ہم نے دکھ کو بھی ترانہ بنا لیا ہے۔

2 Line Allama Iqbal Motivational Shayari

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر جھکے،
جو تو چاہے تو بدل ڈالے زمانے کی ڈھب۔

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں،
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

تُو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا،
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں۔

اٹھ اے جوانِ مسلم! تجھے حکم ہے خُدا کا،
کہ اٹھ کے رُخ بدل دے زمانے کی بے حِسی کو۔

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے،
دہر میں نام مسلماں کو جلا لا کر دے۔

جو خود کو پہچان لے وہ بادشاہ ہے،
جو خود کو بھول جائے وہ تباه ہے۔

خودی کا سمندر ہو، یا خوابوں کا آسمان،
بس اپنی نیت کو رکھ، جیسے لوحِ قرآن۔

بلند رکھ اپنے ارادوں کو، اے فرزندِ خاک،
کہ تقدیر بھی جھک جاتی ہے، جب جوان ہوتا ہے پاک۔

جو خود میں رہ کے جگمگائے وہی ستارہ ہے،
جو اوروں سے روشنی لے وہ سیارہ ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر بدل جائے،
جو تو چل دے تو زمانہ بھی سمت بدل جائے۔

ترا اپنا وجود ہے تری دولت،
اسے پہچان لے تو ہے بے مثل۔

جو خود سے ملنے کا ہنر جان لے،
وہ زندگی کا راز پہچان لے۔

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے،
کہ دانہ خاک ہو کر پھول کی پتی بنتا ہے۔

تیری شبنم کی تاثیر ہے تو اٹھا لے علم،
تیری آگ ہے تو سلگا لے جہاں کو۔

قوم اس کی جوانوں پہ فخر کرتی ہے،
جو خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔

Inspirational Urdu Poetry by Iqbal

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں،
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

تُو شاہیں ہے، پرواز ہے کام تیرا،
ترے سامنے آسماں اور بھی ہیں۔

اٹھ اے جوانِ مسلم! تجھے حکم ہے خُدا کا،
کہ اٹھ کے رُخ بدل دے زمانے کی بے حِسی کو۔

قوتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے،
دہر میں نام مسلماں کو جلا لا کر دے۔

تو اٹھ اور اپنی دنیا کو آپ ہی بنا،
تیرے سوا کون ہے تیرے لیے دعا بنا۔

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے،
کہ دانہ خاک ہو کر پھول کی پتی بنتا ہے۔

اے سبزۂ دمن! تجھے اٹھنا ہے ایک دن،
تو آج ہی سے تیار رہ، کل کی صبح ہے تیری۔

جو جوانوں کی ہمت جگا سکتا ہے،
وہی اس قوم کو نئی راہ دکھا سکتا ہے۔

تیری شبنم کی تاثیر ہے تو اٹھا لے علم،
تیری آگ ہے تو سلگا لے جہاں کو۔

قوم اس کی جوانوں پہ فخر کرتی ہے،
جو خوابوں کو حقیقت میں بدل دیتے ہیں۔

تیری آنکھوں میں ہے وہ خواب جو دیکھا تھا اقبال نے،
اب اٹھ اور اسے سچا کر دکھا۔

اے نوائے شرق! تری صدا سے جگا ہے جہاں،
اب ذرا اپنے اندر کی آگ کو بھی جگا۔

نہ ڈر خود کو پہچاننے سے اے بندے،
تیری ہستی ہے اک شاہکار، کر اسے آباد۔

خودی کی رہ میں جو چلا، وہی کامیاب ہوا،
جو خود سے ملا، وہی خدا سے ملا۔

اٹھ، اپنی حقیقت کو پہچان، زمانے کو بدل،
خاک میں بھی چمک ہے، اگر تو عمل کر۔

Conclusion

अल्लामा इक़बाल सिर्फ एक शायर नहीं, बल्कि एक movement थे। उनकी शायरी ने generations کو jagaya, उन्हें uthne और apni taqdeer khud likhne की taqat दी। उनका concept of Khudi آج بھی اتنا ہی powerful اور relevant ہے۔ چاہے आप student हों, professional हों, या business कर रहे हों – इक़बाल की शायरी आपको success کے path پہ چلنے کی inspiration देगी।

یاد رکھیے, इक़बाल ने हमें khudi کا سبق دیا – apne aap ko pehchaanne کا, apne andar ki taqat ko jaagne کا, और apni manzil khud banane کا۔ उनकी शायरी में वो fire है جو آپ کو dead سے alive کر سکتی ہے। इन शायरियों को अपने दिल में उतारिए, अपने goals को دوبارہ define کیجیے, और Iqbal کی vision کو reality میں بدلئے۔ کیونکہ Iqbal ने सही कहा था – Khudi ko kar buland itna ke har taqdeer se pehle, Khuda bande se khud poochhe bata teri raza kya hai.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *